کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ہدیہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان​۔
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُكَتِبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا ، كَالْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ، ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ہدیہ دے کر پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہو جائے تو قے کرے ، پھر اسے چاٹ لے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الولاء والهبة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (6 / 63)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1299 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفًعَانِ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ للِرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلا الْوِالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حِدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ الشَّافِعيُّ : لَا يَحِلُّ لِمَنْ وَهَبَ هِبَةً أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيمَا أَعْطَى وَلَدَهُ ، وَاحجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی ہدیہ دے ، پھر اسے واپس لے لے ، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دیتا ہے ( وہ اسے واپس لے سکتا ہے ) اور جو شخص کوئی عطیہ دے پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب آسودہ ہو جائے تو قے کرے ، پھر اپنا قے کھا لے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شافعی کہتے ہیں : کسی ہدیہ دینے والے کے لیے جائز نہیں کہ ہدیہ واپس لے لے سوائے باپ کے ، کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ جو ہدیہ اپنے بیٹے کو دیا ہے اسے واپس لے لے ، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الولاء والهبة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (2131)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1299 (صحیح)»