کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: باپ اپنے بچے کا انکار کر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " فَهَلْ فِيهَا أَوْرَقُ " ، قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : " أَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ " ، قَالَ : لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهَا ، قَالَ : " فَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` بنی فزارہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیوی سے ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے پوچھا : ” وہ کس رنگ کے ہیں ؟ “ اس نے کہا : سرخ ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا اس میں کوئی مٹمیلے رنگ کا بھی ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، اس میں ایک خاکستری رنگ کا بھی ہے ۔ آپ نے پوچھا : ” وہ کہاں سے آیا ؟ “ اس نے کہا : شاید وہ کوئی خاندانی رگ کھینچ لایا ہو گا ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” اس لڑکے نے بھی شاید کوئی خاندانی رگ کھینچ لائی ہو اور کالے رنگ کا ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الولاء والهبة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2102)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305) ، والحدود 41 (6847) ، والإعتصام 12 (7314) ، صحیح مسلم/اللعان 1 (1500) ، سنن ابی داود/ الطلاق 28 (2260) ، سنن النسائی/الطلاق 46 (35090) ، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200) ( تحفة الأشراف : 13129) ، مسند احمد (2/234، 239، 409) (صحیح)»