حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُّونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيُطَيِّبُ نَفْسَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ وَعَكٍ كَانَ بِهِ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : " هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُذْنِبِ لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت کی جسے تپ دق کا مرض تھا ، آپ نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے : یہ میری آگ ہے جسے میں اپنے گنہگار بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ جہنم کی آگ میں سے اس کا حصہ بن جائے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ آخرت میں جہنم کی آگ سے محفوظ رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کے وقت یوں بھی فرماتے تھے: «لابأس طهور إن شاء الله» ۔
حدیث نمبر: 2089
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ : " كَانُوا يَرْتَجُونَ الْحُمَّى لَيْلَةً كَفَّارَةً لِمَا نَقَصَ مِنَ الذُّنُوبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری کہتے ہیں کہ` ایک رات صحابہ یہ امید ظاہر کر رہے تھے کہ بخار چھوٹے گناہوں کے لیے کفارہ ہے ۔