کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 2084
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشْقَرُ الرِّبَاطِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، أَخْبَرَنَا ثَوْبَانُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى فَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ فَلْيَسْتَنْقِعْ نَهْرًا جَارِيًا لِيَسْتَقْبِلَ جَرْيَةَ الْمَاءِ ، فَيَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ ، بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَلْيَغْتَمِسْ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٌ ، وَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٌ ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ ، فَتِسْعٌ فَإِنَّهَا لَا تَكَادُ تُجَاوِزُ تِسْعًا بِإِذْنِ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو بخار آئے اور بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے تو وہ اسے پانی سے بجھا دے ، ایک بہتی نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف اپنا رخ کرے پھر یہ دعا پڑھے : «بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك» ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ، اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء دے اور اپنے رسول کی اس بات کو سچا بنا “ وہ اس عمل کو فجر کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے کرے ، وہ اس نہر میں تین دن تک تین غوطے لگائے ، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پانچ دن تک ، اگر پانچ دن میں اچھا نہ ہو تو سات دن تک اور اگر سات دن میں اچھا نہ ہو تو نو دن تک ، اللہ کے حکم سے اس کا مرض نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2084
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (2339) // ضعيف الجامع الصغير (375) // , شیخ زبیر علی زئی: (2084) إسناده ضعيف, سعيد بن زرعة : مستور (تق:2306)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 2087) (ضعیف) (سند میں ’’ سعید بن زرعہ حمصی ‘‘ مجہول الحال ہیں)»