حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا : هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : " هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ! " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ( ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ ) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی توفیق حسب تقدیر الٰہی ہوتی ہے، اس لیے اسباب کو اپنانا چاہیئے، لیکن یہ اعتقاد نہ ہو کہ ان سے تقدیر بدل جاتی ہے، کیونکہ اللہ اپنے فیصلہ کو نہیں بدلتا۔
حدیث نمبر: 2065M
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كِلْتَا الرِّوَايَتَيْنِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَنْ أَبِي خُزَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهَذَا أَصَحُّ ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي خُزَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- دونوں روایتیں سفیان ابن عیینہ سے مروی ہیں ، ان کے بعض شاگردوں نے سند میں «عن أبي خزامة ، عن أبيه» کہا ہے اور بعض نے «عن ابن أبي خزامة ، عن أبيه» کہا ہے ، ابن عیینہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اسے «عن الزهري ، عن أبي خزامة ، عن أبيه» روایت کی ہے ، یہ زیادہ صحیح ہے ،
۳- ہم اس روایت کے علاوہ ابوخزامہ سے ان کی دوسری کوئی روایت نہیں جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- دونوں روایتیں سفیان ابن عیینہ سے مروی ہیں ، ان کے بعض شاگردوں نے سند میں «عن أبي خزامة ، عن أبيه» کہا ہے اور بعض نے «عن ابن أبي خزامة ، عن أبيه» کہا ہے ، ابن عیینہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اسے «عن الزهري ، عن أبي خزامة ، عن أبيه» روایت کی ہے ، یہ زیادہ صحیح ہے ،
۳- ہم اس روایت کے علاوہ ابوخزامہ سے ان کی دوسری کوئی روایت نہیں جانتے ہیں ۔