کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: معوذتین (سورۃ الفلق و سورۃ الناس) کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2058
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ ، فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے ، یہاں تک کہ معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں ، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ان دونوں سورتوں یعنی «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» کے بہت سارے فائدے ہیں، انہیں صبح و شام تین تین بار پڑھنے والا إن شاء اللہ مختلف قسم کی بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ رہے گا، ان سورتوں کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دونوں کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2058
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3511) , شیخ زبیر علی زئی: (2058) إسناده ضعيف / ن 5496، جه 3511, الجريري اختلط (د 1555) ولم أجد راويًا عنه فى ھذا الحديث قبل اختلاطه
تخریج حدیث «سنن النسائی/الاستعاذة 37 (5496) ، سنن ابن ماجہ/الطب 33 (3511) ( تحفة الأشراف : 4327) (صحیح)»