کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ : السَّعُوطُ ، وَاللَّدُودُ ، وَالْحِجَامَةُ ، وَالْمَشِيُّ " ، فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ أَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا فَرَغُوا ، قَالَ : لُدُّوهُمْ ، قَالَ : فَلُدُّوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْعَبَّاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» ( ناک میں ڈالنے والی دوا ) ، «لدود» ( منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا ) ، «حجامة» ( پچھنا لگانا حجامہ ) اور دست آور دوا ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی ، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا : ” موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو “ ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : عباس رضی الله عنہ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2047
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (4473 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (2047 ،2048) إسناده ضعيف, عباد بن منصور : ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف وانظر حدیث رقم 1757 (لم یذکرہ المزي بھذا اللفظ، وإنما ذکرہ بلفظ ما مضی برقم 1757 (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 2048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ : اللَّدُودُ ، وَالسَّعُوطُ ، وَالْحِجَامَةُ ، وَالْمَشِيُّ ، وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ : الْإِثْمِدُ ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ " ، قَالَ : وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ 75 ، وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا ، ناک میں ڈالنے کی دوا ، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے ، اس لیے کہ وہ بینائی ( نظر ) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے “ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2048
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف إلا فقرة الاكتحال بالإثمد فصحيحة، ابن ماجة (3495 - 3497 - 3499) , شیخ زبیر علی زئی: (2047 ،2048) إسناده ضعيف, عباد بن منصور : ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»