حدیث نمبر: 2035
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ حَازِمٍ الْبَلْخِيُّ ، قَال : سَمِعْتُ الْمَكِّيَّ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَكِّيِّ ، فَجَاءَ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ : أَعْطِهِ دِينَارًا ، فَقَالَ : مَا عِنْدِي إِلَّا دِينَارٌ إِنْ أَعْطَيْتُهُ لَجُعْتَ وَعِيَالُكَ ، قَالَ : فَغَضِبَ وَقَالَ : أَعْطِهِ ، قَالَ الْمَكِّيُّ : فَنَحْنُ عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِكِتَابٍ وَصُرَّةٍ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْهِ بَعْضُ إِخْوَانِهِ ، وَفِي الْكِتَابِ إِنِّي قَدْ بَعَثْتُ خَمْسِينَ دِينَارًا ، قَالَ : فَحَلَّ ابْنُ جُرَيْجٍ الصُّرَّةَ : فَعَدَّهَا فَإِذَا هِيَ أَحَدٌ وَخَمْسُونَ دِينَارًا ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ : قَدْ أَعْطَيْتَ وَاحِدًا فَرَدَّهُ اللَّهُ عَلَيْكَ وَزَادَكَ خَمْسِينَ دِينَارًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے سے «جزاك الله خيراً» ” اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلا دے “ کہا ، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے ، ہم اسے اسامہ بن زید رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ،
۳- مکی بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن جریج مکی کے پاس تھے ، ایک مانگنے والا آیا اور ان سے کچھ مانگا ، ابن جریج نے اپنے خزانچی سے کہا : اسے ایک دینار دے دو ، خازن نے کہا : میرے پاس صرف ایک دینار ہے اگر میں اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے اہل و عیال بھوکے رہ جائیں گے ، یہ سن کر ابن جریج غصہ ہو گئے اور فرمایا : اسے دینار دے دو ، ہم ابن جریج کے پاس ہی تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک خط اور تھیلی لے کر آیا جسے ان کے بعض دوستوں نے بھیجا تھا ، خط میں لکھا تھا : میں نے پچاس دینار بھیجے ہیں ، ابن جریج نے تھیلی کھولی اور شمار کیا تو اس میں اکاون دینار تھے ، ابن جریج نے اپنے خازن سے کہا : تم نے ایک دینار دیا تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اسے مزید پچاس دینار کے ساتھ لوٹا دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے ، ہم اسے اسامہ بن زید رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ،
۳- مکی بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن جریج مکی کے پاس تھے ، ایک مانگنے والا آیا اور ان سے کچھ مانگا ، ابن جریج نے اپنے خزانچی سے کہا : اسے ایک دینار دے دو ، خازن نے کہا : میرے پاس صرف ایک دینار ہے اگر میں اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے اہل و عیال بھوکے رہ جائیں گے ، یہ سن کر ابن جریج غصہ ہو گئے اور فرمایا : اسے دینار دے دو ، ہم ابن جریج کے پاس ہی تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک خط اور تھیلی لے کر آیا جسے ان کے بعض دوستوں نے بھیجا تھا ، خط میں لکھا تھا : میں نے پچاس دینار بھیجے ہیں ، ابن جریج نے تھیلی کھولی اور شمار کیا تو اس میں اکاون دینار تھے ، ابن جریج نے اپنے خازن سے کہا : تم نے ایک دینار دیا تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اسے مزید پچاس دینار کے ساتھ لوٹا دیا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کسی پر احسان کیا گیا ہو، اس نے اپنے محسن کے لیے «جزاك الله خيرا» کہا تو اس احسان کا اس نے پورا پورا شکر یہ ادا کر دیا۔