کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: آدمی کے پاس جو چیز نہ ہو اس پر اترانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ ، فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَ ، وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : " وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ " يَقُولُ : قَدْ كَفَرَ تِلْكَ النِّعْمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے کوئی تحفہ دیا جائے پھر اگر اسے میسر ہو تو اس کا بدلہ دے اور جسے میسر نہ ہو تو وہ ( تحفہ دینے والے کی ) تعریف کرے ، اس لیے کہ جس نے تعریف کی اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے نعمت کو چھپا لیا اس نے کفران نعمت کیا ، اور جس نے اپنے آپ کو اس چیز سے سنوارا جو وہ نہیں دیا گیا ہے ، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں اسماء بنت ابوبکر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- «ومن كتم فقد كفر» کا معنی یہ ہے : اس نے اس نعمت کی ناشکری کی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (2617) ، التعليق الرغيب (2 / 55) , شیخ زبیر علی زئی: (2034) إسناده ضعيف, أبو الزبير عنعن (تقدم:927) وللحديث طريق آخر ضعيف عند أبى داود (4813)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 2892) (حسن)»