کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مومن کی عظمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2032
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، وَالْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ ، وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ ، لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ " ، قَالَ : وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا إِلَى الْبَيْتِ أَوْ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللَّهِ مِنْكِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، نَحْوَهُ ، وَرُوِي عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے ، بلند آواز سے پکارا اور فرمایا : ” اے اسلام لانے والے زبانی لوگوں کی جماعت ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا ہے ! مسلمانوں کو تکلیف مت دو ، ان کو عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو ، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتا ہے ، اسے رسوا و ذلیل کر دیتا ہے ، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو “ ۔ راوی ( نافع ) کہتے ہیں : ایک دن ابن عمر رضی الله عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا : کعبہ ! تم کتنی عظمت والے ہو ! اور تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے ، لیکن اللہ کی نظر میں مومن ( کامل ) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲-اسحاق بن ابراہیم سمر قندی نے بھی حسین بن واقد سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ،
۳- ابوبرزہ اسلمی رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، المشكاة (5044 / التحقيق الثانى) ، التعليق الرغيب (3 / 277)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 7509) (حسن)»