حدیث نمبر: 2019
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو “ ، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو “ ، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے ۔