حدیث نمبر: 2014
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو مَعْبَدٍ اسْمُهُ نَافِذٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو ( حاکم بنا کر ) یمن روانہ کرتے وقت فرمایا : ” مظلوم کی دعا سے ڈرو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ آڑے نہیں آتا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں انس ، ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں انس ، ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے، اس لیے ظلم و تعدی سے ہمیشہ دور رہو، ورنہ مظلوم کی آہ کا شکار ہو جاؤ گے۔