کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نرم برتاؤ اور مہربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2013
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو نرم برتاؤ کا حصہ مل گیا ، اسے اس کی بھلائی کا حصہ بھی مل گیا اور جو شخص نرم برتاؤ کے حصہ سے محروم رہا وہ بھلائی سے بھی محروم رہا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عائشہ ، جریر بن عبداللہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ نرم برتاؤ، مہربانی اور رفق دنیا اور آخرت کی ہر اچھائی کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے، چنانچہ انسان میں خیر کا پہلو اتنا ہی غالب ہو گا جتنا اس میں رفق اور نرم روی کا پہلو غالب ہو گا، اور جو اس صفت سے محروم ہو گا وہ خیر سے خالی ہو گا
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2013
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (515 و 874)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11003) ، وانظر: مسند احمد (6/451) (صحیح)»