کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: شرم و حیاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي بَكْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حیاء ایمان کا ایک جزء ہے اور ایمان والے جنت میں جائیں گے اور بےحیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر ، ابوبکرہ ، ابوامامہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: جس طرح ایمان صاحب ایمان کو گناہوں سے روکنے کا سبب ہے، اسی طرح حیاء انسان کو معصیت اور گناہوں سے بچاتا ہے، بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی ڈھال ہے، اسی وجہ سے حیاء کو ایمان کا جزء کہا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (495) ، الروض النضير (746)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15040، و 15053، و15088) (صحیح)»