کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: خوش مزاجی اور مسکراہٹ سے ملنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بھلائی صدقہ ہے ، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوذر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف مال ہی خرچ کرنا صدقہ نہیں ہے، بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے، چنانچہ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے، اور دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، التعليق الرغيب (3 / 264)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3085) (وانظر: مسند احمد (3/344، 360) (صحیح)»