کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1965
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، عمرو بن امیہ ضمری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (982)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإیمان 42 (55) ، والمغازي 12 (4006) ، والنفقات 1 (5351) ، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1002) ، سنن النسائی/الزکاة 60 (2546) ( تحفة الأشراف : 9996) ، و مسند احمد (4/120، 122) ، و (5/273) ، سنن الدارمی/الاستئذان 35 (2667) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْضَلُ الدِّينَارِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : بَدَأَ بِالْعِيَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " فَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ لَهُ صِغَارٍ يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمُ اللَّهُ بِهِ " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے ، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے جہاد کی سواری پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے “ ، ابوقلابہ کہتے ہیں : آپ نے بال بچوں کے نفقہ ( اخراجات ) سے شروعات کی پھر فرمایا : ” اس آدمی سے بڑا اجر و ثواب والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے ، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں حرام چیزوں سے بچاتا ہے اور انہیں مالدار بناتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2760)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزکاة 12 (994) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد 4 (2760) ( تحفة الأشراف : 2101) ، و مسند احمد (5/277، 279، 284) (صحیح)»