حدیث نمبر: 1951
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ نَاصِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَنَاصِحٌ هُوَ ابْنُ الْعَلَاءِ كُوفِيٌّ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِالْقَوِيِّ ، وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَنَاصِحٌ شَيْخٌ آخَرُ بَصْرِيٌّ ، يَرْوِي عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، وَغَيْرِهِ ، هُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے لڑکے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ دینے سے بہتر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- راوی ناصح کی کنیت ابوالعلا ہے ، اور یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں ، محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ، یہ حدیث صرف اسی سند سے معروف ہے ،
۳- ناصح ایک دوسرے شیخ بھی ہیں جو بصرہ کے رہنے والے ہیں ، عمار بن ابوعمار وغیرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں ، اور یہ ان سے زیادہ قوی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- راوی ناصح کی کنیت ابوالعلا ہے ، اور یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں ، محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ، یہ حدیث صرف اسی سند سے معروف ہے ،
۳- ناصح ایک دوسرے شیخ بھی ہیں جو بصرہ کے رہنے والے ہیں ، عمار بن ابوعمار وغیرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں ، اور یہ ان سے زیادہ قوی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1952
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ وَهُوَ عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي ، وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن سعید بن عاص کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عامر بن ابوعامر خزاز کی روایت سے جانتے ہیں ، اور عامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں ،
۲- راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں ،
۳- یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عامر بن ابوعامر خزاز کی روایت سے جانتے ہیں ، اور عامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں ،
۲- راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں ،
۳- یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «ایوب» ہیں تو ان کے دادا «عمرو بن سعید الأشرق» صحابی نہیں ہیں، اور اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «موسیٰ» ہیں تو ان کے دادا «سعید بن العاص» بہت چھوٹے صحابی ہیں، ان کا سماع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے، تب یہ روایت مرسل صحابی ہوئی۔