کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: حسد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1935
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپس میں قطع تعلق نہ کرو ، ایک دوسرے سے بےرخی نہ اختیار کرو ، باہم دشمنی و بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، اللہ کے بندو ! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے سلام کلام بند رکھے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوبکر صدیق ، زبیر بن عوام ، ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اسلام نے مسلم معاشرہ کی اصلاح اور اس کی بہتری کا خاص خیال رکھا ہے، اس حدیث میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی اصلاح معاشرہ اور سماج کی سدھار سے ہے، صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے، ہاہمی بغض و عناد اور دشمنی سے باز رہنے کو کہا گیا ہے، حسد جو معاشرہ کے لیے ایسی مہلک بیماری ہے جس سے نیکیاں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں، اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (7 / 93)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأدب 57 (6065) ، 62 (6076) ، صحیح مسلم/البر والصلة 7 (2559) ، سنن ابی داود/ الأدب 55 (4910) ( تحفة الأشراف : 1488) ، و مسند احمد (3/199) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1936
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیئے ، ایک اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس میں سے رات دن ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہے ، دوسرا اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے علم قرآن دیا اور وہ رات دن اس کا حق ادا کرتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث آئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: حسد کی دو قسمیں ہیں: حقیقی اور مجازی، حقیقی حسد یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے پاس موجود نعمت کے ختم ہو جانے کی تمنا و خواہش کرے، حسد کی یہ قسم بالاتفاق حرام ہے، اس کی حرمت سے متعلق صحیح نصوص وارد ہیں، اسی لیے اس کی حرمت پر امت کا اجماع ہے، حسد کی دوسری قسم رشک ہے، یعنی دوسرے کی نعمت کے خاتمہ کی تمنا کیے بغیر اس نعمت کے مثل نعمت کے حصول کی تمنا کرنا، اس حدیث میں حسد کی یہی دوسری قسم مراد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الروض النضير (897)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/التوحید 45 (7529) ، صحیح مسلم/ صلاة المسافرین 47 (815) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 22 (4209) ( تحفة الأشراف : 6815) ، و مسند احمد (2/9، 36، 88، 133، 152) (صحیح)»