حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ لَهُ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ مُرَّةَ الْفِهْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَنَشٌ هُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، يَقُولُ : حَنَشٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے ، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ ( شرک ) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے ، کنیت ابوعلی رحبی ہے ، سلیمان تیمی کہتے ہیں : یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ،
۲- اس باب میں مرہ فہری ، ابوہریرہ ، ابوامامہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے ، کنیت ابوعلی رحبی ہے ، سلیمان تیمی کہتے ہیں : یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ،
۲- اس باب میں مرہ فہری ، ابوہریرہ ، ابوامامہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1918
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو الْقَاسِمِ الْمَكِّيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ ، يَعْنِي : السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں کی طرح ہوں گے ۱؎ اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے اشارہ ہے یتیموں کے سرپرستوں کے درجات کی بلندی کی طرف یعنی یتیموں کی کفالت کرنے والے جنت میں اونچے درجات پر فائز ہوں گے۔