مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَكُونُ لِأَحَدِكُمْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، وَأَنَسٍ ، وَجَابِرٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هُوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبٍ ، وَقَدْ زَادُوا فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے ، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے ،
۲- اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے ( سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان ) ایک اور راوی ( ایوب بن بشیر ) کا اضافہ کیا ہے ،
۳- اس باب میں عائشہ ، عقبہ بن عامر ، انس ، جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف انظر ما قبله (1911) // ضعيف الجامع الصغير (6369) // , شیخ زبیر علی زئی: (1912) إسناده ضعيف, السند منقطع والحديث الآتي (الأصل : 1916) يغني عنه
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الأدب 130 (5147) ( تحفة الأشراف : 4041) ، و یأتي برقم 1916 (صحیح) (اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کر دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب 1973، و الادب المفرد باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الالبانی 409، والسراج المنیر 2/1049)»
حدیث نمبر: 1913
حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَنَاتِ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص لڑکیوں کی پرورش سے دوچار ہو ، پھر ان کی پرورش سے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے تو یہ سب لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بنیں گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الزکاة 10 (1418) ، والأدب 18 (5995) ، صحیح مسلم/البر والصلة 46 (2629) ، کلاہما مع ذکر القصة المشھورة في رقم 1915، و مسند احمد (6/33، 88، 166، 243) ، ویأتي عند المؤلف برقم 1915 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1914
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ هُوَ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ دَخَلْتُ أَنَا وَهُوَ الْجَنَّةَ كَهَاتَيْنِ " وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ حَدِيثٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ : عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، وَالصَّحِيحُ : هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے “ ، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں ( شہادت اور درمیانی ) سے اشارہ کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- محمد بن عبید نے محمد بن عبدالعزیز کے واسطہ سے اسی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہے اور سند بیان کرتے ہوئے کہا ہے : «عن أبي بكر بن عبيد الله بن أنس» حالانکہ صحیح یوں ہے «عن عبيد الله بن أبي بكر بن أنس» ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1914
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (297)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/البر والصلة 46 (2631) ، ( تحفة الأشراف : 1713) (صحیح) (مسلم کی سند میں ’’ عن عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، عن أنس بن مالك ‘‘ ہے)»
حدیث نمبر: 1915
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا ، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں ، اس نے ( کھانے کے لیے ) کوئی چیز مانگی مگر میرے پاس سے ایک کھجور کے سوا اسے کچھ نہیں ملا ، چنانچہ اسے میں نے وہی دے دیا ، اس عورت نے کھجور کو خود نہ کھا کر اسے اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان بانٹ دیا اور اٹھ کر چلی گئی ، پھر میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، میں نے آپ سے یہ ( واقعہ ) بیان کیا تو آپ نے فرمایا : ” جو ان لڑکیوں کی پرورش سے دو چار ہو اس کے لیے یہ سب جہنم سے پردہ ہوں گی “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا نے اسے تین کھجوریں دی تھیں، دو کھجوریں اس نے ان دونوں بچیوں کو دے دیں اور ایک کھجور خود کھانا چاہتی تھی، لیکن بچیوں کی خواہش پر آدھا آدھا کر کے اسے بھی ان کو دے دیا، جس پر عائشہ رضی الله عنہا کو بڑا تعجب ہوا، ان دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں ایک کھجور دی، پھر بعد میں جب دو کھجوریں اور مل گئیں تو انہیں بھی اس کے حوالہ کر دیا، یا یہ کہا جائے کہ یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، التعليق الرغيب (3 / 83)
حدیث تخریج «أنظر حدیث رقم 1913 ( تحفة الأشراف : 16350) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1916
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ ، أَوِ ابْنَتَانِ ، أَوْ أُخْتَانِ ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ ، وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس تین لڑکیاں ، یا تین بہنیں ، یا دو لڑکیاں ، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1916
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف بهذا اللفظ الصحيحة تحت الحديث (294) // ضعيف الجامع الصغير (5808) //
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 912 ( تحفة الأشراف : 1084) (صحیح) (ملاحظہ ہو: حدیث رقم: 1912، وصحیح الترغیب 1973)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔