حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَال : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي سُوَيْدٍ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ : زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ ، وَتُجَبِّنُونَ ، وَتُجَهِّلُونَ ، وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ ، وَلَا نَعْرِفُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَمَاعًا مِنْ خَوْلَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خولہ بنت حکیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گود میں اپنی بیٹی ( فاطمہ ) کے دو لڑکوں ( حسن ، حسین ) میں سے کسی کو لیے ہوئے باہر نکلے اور آپ ( اس لڑکے کی طرف متوجہ ہو کر ) فرما رہے تھے : ” تم لوگ بخیل بنا دیتے ہو ، تم لوگ بزدل بنا دیتے ہو ، اور تم لوگ جاہل بنا دیتے ہو ، یقیناً تم لوگ اللہ کے عطا کئے ہوئے پھولوں میں سے ہو ۔“
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابراہیم بن میسرہ سے مروی ابن عیینہ کی حدیث کو ہم صرف انہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- ہم نہیں جانتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کا سماع خولہ سے ثابت ہے ،
۳- اس باب میں ابن عمر اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابراہیم بن میسرہ سے مروی ابن عیینہ کی حدیث کو ہم صرف انہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- ہم نہیں جانتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کا سماع خولہ سے ثابت ہے ،
۳- اس باب میں ابن عمر اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔