مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1897
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَبَاكَ ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ ، فَالْأَقْرَبَ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَبَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ هُوَ أَبْنُ مُعَاوِيَةَ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَرَوَى عَنْهُ مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنی ماں کے ساتھ “ ، میں نے عرض کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا : ” اپنی ماں کے ساتھ “ ، میں نے عرض کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا : ” اپنی ماں کے ساتھ “ ، میں نے عرض کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا : ” پھر اپنے باپ کے ساتھ ، پھر رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد کا ، درجہ بدرجہ “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ، شعبہ نے بہز بن حکیم کے بارے میں کلام کیا ہے ، محدثین کے نزدیک وہ ثقہ ہیں ، ان سے معمر ، ثوری ، حماد بن سلمہ اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمرو ، عائشہ اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: ماں کو تین مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے: ایک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب نو ماہ تک بچہ کو پیٹ میں رکھ کر مشقت و تکلیف برداشت کرتی ہے، دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب بچہ جننے کا وقت آتا ہے، وضع حمل کے وقت کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ماں ہی کو معلوم ہے، تیسرا مرحلہ دودھ پلانے کا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماں کو قرابت داروں میں نیکی اور صلہ رحمی کے لیے سب سے افضل اور سب سے مستحق قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1897
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (4929)
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الأدب 129 (5139) ، ( تحفة الأشراف : 11883) ، و مسند احمد (5/3، 5) (حسن)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔