مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا۔
حدیث نمبر: 1895
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ مِثْلَ هَذَا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور ٹھنڈا مشروب سب سے زیادہ پسند تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ابن عیینہ سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے ، لیکن صحیح وہی ہے جو زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4282 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (3006) ، مختصر الشمائل (175) , شیخ زبیر علی زئی: (1895) إسناده ضعيف, الزھري عنعن (تقدم:440) وللحديث شاھد ضعيف عند أحمد (338/1)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف (أخربہ النسائي في الکبریٰ) ( تحفة الأشراف : 16648) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1896
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ ؟ قَالَ : الْحُلْوُ الْبَارِدُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا مشروب بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میٹھا اور ٹھنڈا مشروب “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے ، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرسلاً روایت کی ہے ،
۲- یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1896
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (1895) , شیخ زبیر علی زئی: (1896) إسناده ضعيف, السند مرسل وانظر الحديث السابق : 1895
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 19394 و 19414) (صحیح الإسناد مرسل) (زہری تابعی ہے ان کی روایت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرسل ہے، اور زہری کی مراسیل کو سب سے خراب مرسل کا درجہ علماء نے دیا ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث میں زہری نے بسند عروہ ام المومنین عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔