حدیث نمبر: 1895
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ مِثْلَ هَذَا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور ٹھنڈا مشروب سب سے زیادہ پسند تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ابن عیینہ سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے ، لیکن صحیح وہی ہے جو زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ابن عیینہ سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے ، لیکن صحیح وہی ہے جو زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 1896
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ ؟ قَالَ : الْحُلْوُ الْبَارِدُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا مشروب بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میٹھا اور ٹھنڈا مشروب “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے ، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرسلاً روایت کی ہے ،
۲- یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے ، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرسلاً روایت کی ہے ،
۲- یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔