مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مشکیزے سے منہ لگا کر پینے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1891
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ فَخَنَثَهَا ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، وَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ عِيسَى أَمْ لَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن انیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے ، اسے جھکایا ، پھر اس کے منہ سے پانی پیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ام سلیم سے بھی روایت ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ،
۲- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے ، عبداللہ بن عمر حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، میں نہیں جانتا ہوں کہ انہوں نے عیسیٰ سے حدیث سنی ہے یا نہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1891
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر، ضعيف أبي داود // 797 / 3721 // , شیخ زبیر علی زئی: (1891) إسناده ضعيف / د 3721
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الأشربة 15 (3721) ، ( تحفة الأشراف : 5149) (منکر) (سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، اور یہ حدیث پچھلی صحیح حدیث کے برخلاف ہے)»
حدیث نمبر: 1892
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّتِهِ كَبْشَةَ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هُوَ أَخُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَهُوَ أَقْدَمُ مِنْهُ مَوْتًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کبشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے ، آپ نے ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا ، پھر میں مشکیزہ کے منہ کے پاس گئی اور اس کو کاٹ لیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اپنے پاس تبرکاً رکھنے کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1892
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4281) ، مختصر الشمائل (182)
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الأشربة 21 (3423) ، ( تحفة الأشراف : 18049) ، و مسند احمد (6/434) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔