مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: پیتے وقت برتن میں سانس لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1884
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَيُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ : هُوَ أَمْرَأُ وَأَرْوَى " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَرَوَى عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے : ( پانی پینے کا یہ طریقہ ) ” زیادہ خوشگوار اور سیراب کن ہوتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اسے ہشام دستوائی نے بھی ابوعصام کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے ، اور عزرہ بن ثابت نے ثمامہ سے ، ثمامہ نے انس سے روایت کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ پینے والی چیز تین سانس میں پی جائے، اور سانس لیتے وقت برتن سے منہ ہٹا کر سانس لی جائے، اس سے معدہ پر یکبارگی بوجھ نہیں پڑتا، اور اس میں حیوانوں سے مشابہت بھی نہیں پائی جاتی، دوسری بات یہ ہے کہ پانی کے برتن میں سانس لینے سے تھوک اور جراثیم وغیرہ جانے کا جو خطرہ ہے اس سے حفاظت ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3416)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028/123) ، سنن ابی داود/ الأشربة 19 (3727) ( تحفة الأشراف : 1723) ، و مسند احمد (3/119، 185، 211) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1884M
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی انس بن مالک سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1884M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3416)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأشربة 26 (5631) ، صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028/122) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة 18 (3416) ، ( تحفة الأشراف : 498) ، و مسند احمد (3/119) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1885
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ ابْنٍ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ ، وَلَكِنْ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْجَزَرِيُّ هُوَ أَبُو فَرْوَةَ الرُّهَاوِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیو ، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو ، جب پیو تو «بسم اللہ» کہو اور جب منہ سے برتن ہٹاؤ تو «الحمدللہ» کہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1885
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (4278 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6233) // , شیخ زبیر علی زئی: (1885) إسناده ضعيف, يزيد بن سنان: ضعيف (تقدم: 1077) وشيخه كأنه يعقوب (ضعيف / تق:7826) وإلا فمجھول (تق:8482) وقال الھيثمي فى يعقوب بن عطاء بن أبى رباح : ضعفه أحمد والجمھور(مجمع الزوائد 263/3)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5971) (ضعیف) (سند میں ابن عطاء بن ابی رباح مبہم راوی ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔