مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَال : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى يُحَدِّثُ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ ، وَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ ، وَقَالَ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَالْبَرَاءِ ، وَعَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ` حذیفہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا ، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا ، اور کہا : میں اس سے منع کر چکا تھا ، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ۱؎ ، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے ، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا : ” یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ام سلمہ ، براء ، اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی میں نے اسے پہلے ہی ان برتنوں کے استعمال سے منع کر دیا تھا، لیکن منع کرنے کے باوجود جب یہ باز نہ آیا تبھی میں نے اس کے چہرہ پر یہ پانی پھینکا تاکہ آئندہ اس کا خیال رکھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3414)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426) ، والأشربة 27 (5632) ، و 28 (5633) ، واللباس 25 (5831) ، و 27 (5837) ، صحیح مسلم/اللباس 1 (2067) ، سنن ابی داود/ الأشربة 17 (3723) ، سنن النسائی/الزینة 33 (5303) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة 17 (3414) ، ( تحفة الأشراف : 3373) ، و مسند احمد (5/385، 390، 396، 398، 400، 408) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔