مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مٹکے کی نبیذ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1867
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ طَاوُسٌ : وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَسُوَيْدٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طاؤس سے روایت ہے کہ` ایک آدمی ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس آیا اور پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۱؎ ، طاؤس کہتے ہیں : اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن ابی اوفی ، ابو سعید خدری ، سوید ، عائشہ ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نشہ آور ہو جائے، نبیذ اگر نشہ آور نہیں ہے تو حلال ہے، نبیذ وہ شراب ہے جو کھجور، کشمش، انگور، شہد، گیہوں اور جو وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1867
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الأشربة 6 (1997/50) ، سنن النسائی/الأشربة 28 (5617) ، ( تحفة الأشراف : 7098) ، و مسند احمد (2/29، 35، 47، 56، 101، 155) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔