حدیث نمبر: 1839
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ هَانِئٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں عائشہ اور ام ہانی سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں عائشہ اور ام ہانی سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
حدیث نمبر: 1840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ " ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ أَوِ الْأُدْمُ الْخَلُّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے “ ۔
حدیث نمبر: 1840M
حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ: نِعْمَ الإِدَامُ (أَوْ الأُدْمُ) الْخَلُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عائشہ رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر اس میں ہے «نعم الإدام أو الأدم الخل» ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ہم اسے ہشام بن عروہ کی سند سے صرف سلیمان بن بلال کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ہم اسے ہشام بن عروہ کی سند سے صرف سلیمان بن بلال کی روایت سے جانتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1841
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، فَقُلْتُ : لَا إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَرِّبِيهِ فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُمِّ هَانِئٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ اسْمُهُ ثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ ، وَأُمُّ هَانِئٍ مَاتَتْ بَعْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِزَمَانٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ : لَا أَعْرِفُ لِلشَّعْبِيِّ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ : أَبُو حَمْزَةَ كَيْفَ هُوَ عِنْدَكَ فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : تَكَلَّمَ فِيهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَارِبُ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : ” کیا تمہارے پاس ( کھانے کے لیے ) کچھ ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لاؤ ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی ،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں ،
۴- میں نے پھر پوچھا : آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا : احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی ،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں ،
۴- میں نے پھر پوچھا : آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا : احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں ۔
حدیث نمبر: 1842
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُبَارَكِ بْنِ سَعِيدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔