حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ " ، وَفِي الْبَاب : عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں ( پکاتے وقت ) شوربا ( سالن ) زیادہ کر لے ، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے ، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے ،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں ، محمد بن فضاء «معبر» ( یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے ) ہیں ، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے ،
۳- یہ حدیث غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے ،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں ، محمد بن فضاء «معبر» ( یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے ) ہیں ، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے ،
۳- یہ حدیث غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ ، وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے ، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎ ، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا ( سالن ) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا اسے دلی سکون پہنچانا ہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔