کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ : " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (2512) , شیخ زبیر علی زئی: (1808) إسناده ضعيف / د 3828
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3828) ، ( تحفة الأشراف : 10127) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)»
حدیث نمبر: 1809
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : " لَا يَصْلُحُ أَكْلُ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ قَوْلُهُ ، وَرُوِي عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، قَالَ مُحَمَّدٌ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ صَدُوقٌ ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الضَّحَّاكِ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ` علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے ، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، یہ علی رضی الله عنہ کا قول ہے ،
۲- شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے ،
۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (2512) , شیخ زبیر علی زئی: (1809) إسناده ضعيف موقوف, أبو إسحاق عنعن (تقدم: 107) واختلط ولا يعرف سماع الجراح منه : أقبل اختلاطه أم بعد؟
تخریج حدیث «( تحفة الأشراف : 10127) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 1810
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ " ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ان کے گھر ٹھہرے ، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں ( گندنا وغیرہ ) میں سے تھی ، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا : ” تم لوگ اسے کھاؤ ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق ( جبرائیل ) کو تکلیف پہچاؤں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (3364)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3364) ، ( تحفة الأشراف : 18304) (حسن)»
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ : " الثُّومُ مِنْ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ " ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَسَمِعَ مِنْهُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ هُوَ الرِّيَاحِيُّ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ أَبُو خَلْدَةَ خِيَارًا مُسْلِمًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ` لہسن حلال رزق ہے ۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے ، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے ، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں ، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: (1811) إسناده ضعيف, محمد بن حميد ضعيف ( تقدم:85)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : 18646) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں)»