حدیث نمبر: 1793
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا ، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے ،
۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے ، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ،
۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں ،
۵- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے ،
۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے ، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ،
۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں ،
۵- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے، سلف و خلف میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر علما کی اکثریت اس کی حلت کی قائل ہے، جو اسے حرام سمجھتے ہیں، یہ حدیث اور اسی موضوع کی دوسری احادیث ان کے خلاف ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی حرمت کی وجہ جیسا کہ بخاری میں ہے یہ ہے کہ یہ ناپاک اور پلید حیوان ہے۔