حدیث نمبر: 1785
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ : " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ " ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ " ، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ ، قَالَ : " مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا ، آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو ؟ “ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا ، آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے ؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو ؟ اس نے پوچھا : میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ؟ آپ نے فرمایا : ” چاندی کی اور ( وزن میں ) ایک مثقال سے کم رکھو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ،
۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ،
۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں ۔