کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: کندھوں تک لٹکنے والے بالوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ، حَسَنَ الْجِسْمِ ، أَسْمَرَ اللَّوْنِ ، وَكَانَ شَعْرُهُ لَيْسَ بِجَعْدٍ وَلَا سَبْطٍ ، إِذَا مَشَى يَتَوَكَّأُ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَالْبَرَاءِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَجَابِرٍ ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، وَأُمِّ هَانِئٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے ، آپ نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد ، گندمی رنگ کے سڈول جسم والے تھے ، آپ کے بال نہ گھونگھریالے تھے نہ سیدھے ، آپ جب چلتے تو پیر اٹھا کر چلتے جیسا کوئی اوپر سے نیچے اترتا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس سند سے حمید کی روایت سے انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں عائشہ ، براء ، ابوہریرہ ، ابن عباس ، ابوسعید ، جابر ، وائل بن حجر اور ام ہانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (1 و 2)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وانظر: صحیح البخاری/المناقب 23 (3547) ، ( تحفة الأشراف : 720) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1755
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذَا الْحَرْفَ ، " وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ " ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ثِقَةٌ ، كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُوَثِّقُهُ وَيَأْمُرُ بِالْكِتَابَةِ عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی ، آپ کے بال «جمہ» سے چھوٹے اور «وفرہ» سے بڑے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- دوسری سندوں سے یہ حدیث عائشہ سے یوں مروی ہے ، کہتی ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی ، راویوں نے اس حدیث میں یہ جملہ نہیں بیان کیا ہے ، «وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة»
۳- عبدالرحمٰن بن ابی زناد ثقہ ہیں ، مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: «جمہ» : ایسے بال جو کندھوں تک لٹکتے ہیں، اور «وفرہ» کان کی لو تک لٹکنے والے بال کو کہتے ہیں، بال تین طرح کے ہوتے ہیں: «جمہ» ، «وفرہ» ، اور «لمہ» ، «لمة» : ایسے بال کو کہتے ہیں جو کان کی لو سے نیچے اور کندھوں سے اوپر ہوتا ہے، (یعنی «وفرہ» سے بڑے اور «جمہ» سے جھوٹے) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بال «جمہ» یعنی کندھوں تک لٹکنے والے تھے، ممکن ہے کبھی «جمہ» رکھتے تھے اور کبھی «لمہ» نیز کبھی «وفرہ» بھی رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (604 و 3635)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الترجل 9 (4187) ، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3635) ، ( تحفة الأشراف : 17019) (حسن صحیح)»