کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مصوروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1751
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا ، يَعْنِي : الرُّوحَ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ ، وَعَائِشَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎ ، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابوہریرہ ، ابوحجیفہ ، عائشہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، پھر بھی اس نے کان لگا کر سنا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1751
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح غاية المرام (120 و 422)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042) ، والأدب 96 (5024) ، سنن النسائی/الزینة 113 (5361) ، ( تحفة الأشراف : 5986) ، و مسند احمد (1/246) ، سنن الدارمی/الرقاق 3 () (صحیح)»