حدیث نمبر: 1741
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَتَخَتَّمَ بِهِ فِي يَمِينِهِ ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ اتَّخَذْتُ هَذَا الْخَاتَمَ فِي يَمِينِي ، ثُمَّ نَبَذَهُ وَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَجَابِرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، نَحْوَ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَنَّهُ تَخَتَّمَ فِي يَمِينِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اسے داہنے ہاتھ میں پہنا ، پھر منبر پر بیٹھے اور فرمایا : ” میں نے اس انگوٹھی کو اپنے داہنے ہاتھ میں پہنا تھا “ ، پھر آپ نے اسے نکال کر پھینکا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث بواسطہ نافع ابن عمر سے دوسری سند سے اسی طرح آئی ہے ، اس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ،
۲- اس باب میں علی ، جابر ، عبداللہ بن جعفر ، ابن عباس ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث بواسطہ نافع ابن عمر سے دوسری سند سے اسی طرح آئی ہے ، اس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ،
۲- اس باب میں علی ، جابر ، عبداللہ بن جعفر ، ابن عباس ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: فقہاء کے نزدیک دائیں اور بائیں کسی بھی ہاتھ میں انگوٹھی پہننا جائز ہے، ان میں سے افضل کون سا ہے، اس کے بارے میں اختلاف ہے، اکثر فقہاء کے نزدیک دائیں ہاتھ میں پہننا افضل ہے، اس لیے کہ انگوٹھی ایک زینت ہے اور دایاں ہاتھ زینت کا زیادہ مستحق ہے، سونے کی یہ انگوٹھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا یہ اس کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 1742
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ ، وَلَا إِخَالُهُ إِلَّا قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل : حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صلت بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا : صلت بن عبداللہ بن نوفل کے واسطہ سے محمد بن اسحاق کی روایت حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا : صلت بن عبداللہ بن نوفل کے واسطہ سے محمد بن اسحاق کی روایت حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 1743
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَتَخَتَّمَانِ فِي يَسَارِهِمَا " ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد الباقر کہتے ہیں کہ` حسن اور حسین اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 1744
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ " ، قَالَ : وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل : هَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابن ابی رافع ۱؎ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا ، عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : یہ اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافع رضی الله عنہ کے لڑکے ”عبدالرحمن“ ہیں۔
حدیث نمبر: 1745
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : " لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ " : نَهَى أَنْ يَنْقُشَ أَحَدٌ عَلَى خَاتَمِهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا ، پھر فرمایا : ” تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے ۔
حدیث نمبر: 1746
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ اس پر «محمد رسول اللہ» نقش تھا، معلوم ہوا کہ پاخانہ پیشاب جاتے وقت اس بات کا خیال رہے کہ اس کے ساتھ ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیئے جس کی بےحرمتی ہو، مثلاً اللہ اور اس کے رسول کے نام یا آیات قرآنیہ وغیرہ۔