کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہو گی، نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيُقَالُ : هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ قُطْبَةَ ، وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ ، وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَأَبُو يَحْيَى هُوَ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ وَيُقَالُ اسْمُهُ : زَاذَانُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ طَلْحَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَعِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۲- کہا جاتا ہے ، قطبہ کی ( اگلی ) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۳- اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے ، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں ، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے ،
۴- اس باب میں طلحہ ، جابر ، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۲- کہا جاتا ہے ، قطبہ کی ( اگلی ) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۳- اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے ، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں ، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے ،
۴- اس باب میں طلحہ ، جابر ، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1710
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے، چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔