کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ ، فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے ، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی امام کا حکم پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ اسے بجا لانا ضروری ہے، بشرطیکہ معصیت سے اس کا تعلق نہ ہو، اگر معصیت سے متعلق ہے تو اس سے گریز کیا جائے گا، لیکن ایسی صورت سے بچنا ہے جس سے امام کی مخالفت سے فتنہ و فساد کے رونما ہونے کا خدشہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجہاد 108 (2955) ، والأحکام 4 (7144) ، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1839) ، سنن ابی داود/ الجہاد 96 (2626) ، سنن النسائی/البیعة 34 (4211) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد 40 (2864) ، ( تحفة الأشراف : 8088) ، و مسند احمد (2/17، 42) (صحیح)»