کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: گھوڑوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَجَرِيرٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَجَابِرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَعُرْوَةُ هُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ وَيُقَالُ : هُوَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ : أَنَّ الْجِهَادَ مَعَ كُلِّ إِمَامٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر ( بھلائی ) بندھی ہوئی ہے ، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر ، ابو سعید خدری ، جریر ، ابوہریرہ ، اسماء بنت یزید ، مغیرہ بن شعبہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- امام احمد بن حنبل کہتے ہیں ، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ وہ گھوڑے ہیں جو جہاد کے لیے استعمال یا جہاد کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجہاد 43 (2750) ، و44 (2752) ، والخمس 8 (3119) ، والمناقب 28 (3643) ، صحیح مسلم/الإمارة 26 (1873) ، سنن النسائی/الخیل 7 (4604، 3605) ، سنن ابن ماجہ/التجارات 69 (2305) ، والجہاد 14 (2786) ، ( تحفة الأشراف : 9897) ، و مسند احمد (4/375، 376) ، سنن الدارمی/الجہاد 24 (3119) (صحیح)»