کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: زرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1692
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ : " كَانَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَانِ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَأَقْعَدَ طَلْحَةَ تَحْتَهُ ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ " ، فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَوْجَبَ طَلْحَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَالسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو زرہیں تھیں ۱؎ ، آپ چٹان پر چڑھنے لگے ، لیکن نہیں چڑھ سکے ، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا ، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے ، زبیر کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” طلحہ نے ( اپنے عمل سے جنت ) واجب کر لی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں صفوان بن امیہ اور سائب بن یزید رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو زرہیں پہننا توکل اور تسلیم و رضا کے منافی نہیں ہے، بلکہ اسباب و وسائل کو اپنانا توکل ورضاء الٰہی کے عین مطابق ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (6112) ، مختصر الشمائل (89) ، صحيح أبي داود (2332)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف وأعادہ في المناقب برقم 3738 ( تحفة الأشراف : 3628) (صحیح)»