حدیث نمبر: 1664
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَرَوْحَةٌ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لَغَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں سرحد کی ایک دن کی پاسبانی کرنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ، تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور بندے کا اللہ کی راہ میں صبح یا شام کے وقت چلنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے “ ۔
حدیث نمبر: 1665
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ : مَرَّ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِشُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ وَهُوَ فِي مُرَابَطٍ لَهُ ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ يَا ابْنَ السِّمْطِ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ ، وَرُبَّمَا قَالَ : خَيْرٌ ، مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ ، وَمَنْ مَاتَ فِيهِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ ، وَنُمِّيَ لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ` سلمان فارسی رضی الله عنہ شرحبیل بن سمط کے پاس سے گزرے ، وہ اپنے «مرابط» ( سرحد پر پاسبانی کی جگہ ) میں تھے ، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر وہاں رہنا گراں گزر رہا تھا ، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے کہا : ابن سمط ؟ کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، سلمان رضی الله عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ کی راہ میں ایک دن کی پاسبانی ایک ماہ روزہ رکھنے اور تہجد پڑھنے سے افضل ہے ، آپ نے «أفضل» کی بجائے کبھی «خير» ( بہتر ہے ) کا لفظ کہا : اور جو شخص اس حالت میں وفات پا گیا ، وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت تک اس کا عمل بڑھایا جائے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مرنے سے اس کے ثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہو گا، بلکہ تاقیامت جاری رہے گا۔
حدیث نمبر: 1666
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ ، لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، قَالَ " وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : هُوَ ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جہاد کے کسی اثر کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملے ۱؎ تو وہ اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ اس کے اندر خلل ( نقص و عیب ) ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث ولید بن مسلم کے واسطے سے اسماعیل بن رافع کی روایت سے ضعیف ہے ، بعض محدثین نے اسماعیل بن رافع کی تضعیف کی ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : اسماعیل ثقہ ہیں ، مقارب الحدیث ہیں ،
۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے ،
۳- سلمان کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے ۔ محمد بن منکدر نے سلمان کو نہیں پایا ہے ، یہ حدیث «عن أيوب بن موسى عن مكحول عن شرحبيل بن السمط عن سلمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث ولید بن مسلم کے واسطے سے اسماعیل بن رافع کی روایت سے ضعیف ہے ، بعض محدثین نے اسماعیل بن رافع کی تضعیف کی ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : اسماعیل ثقہ ہیں ، مقارب الحدیث ہیں ،
۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے ،
۳- سلمان کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے ۔ محمد بن منکدر نے سلمان کو نہیں پایا ہے ، یہ حدیث «عن أيوب بن موسى عن مكحول عن شرحبيل بن السمط عن سلمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جہاد کی نشانیاں مثلاً زخم، اس کی راہ کا گرد و غبار، تھکان، جہاد کے لیے مال و اسباب کی فراہمی اور مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنا، ان میں سے اس شخص کے ساتھ اگر کوئی چیز نہیں ہے تو رب العالمین سے اس کی ملاقات کامل نہیں سمجھی جائے گی، بلکہ اس میں نقص و عیب ہو گا۔
حدیث نمبر: 1667
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَال : سَمِعْتُ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل : أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ اسْمُهُ : تُرْكَانُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوصالح مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ` میں نے منبر پر عثمان رضی الله عنہ کو کہتے سنا : میں نے تم لوگوں سے ایک حدیث چھپا لی تھی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس ڈر کی وجہ سے کہ تم مجھ سے جدا ہو جاؤ گے ۱؎ پھر میری سمجھ میں آیا کہ میں تم لوگوں سے اسے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی اپنے لیے وہی چیز اختیار کرے جو اس کی سمجھ میں آئے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی پاسبانی کرنا دوسری جگہوں کے ایک ہزار دن کی پاسبانی سے بہتر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس حدیث میں جہاد سے متعلق جو فضیلت آئی ہے اسے سن کر تم لوگ سرحدوں کی پاسبانی اور اس کی حفاظت کی خاطر ہم سے جدا ہو جاؤ گے۔
حدیث نمبر: 1668
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , وغير واحد ، قَالُوا : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ ، إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ الْقَرْصَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کو قتل سے صرف اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تکلیف تم میں سے کسی کو چٹکی لینے سے ہوتی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْفِلَسْطِينِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ ، وَأَثَرَيْنِ : قَطْرَةٌ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللهِ ، وَقَطْرَةُ دَمٍ تُهَرَاقُ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَأَمَّا الْأَثَرَانِ : فَأَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَأَثَرٌ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللهِ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانیوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے : آنسو کا ایک قطرہ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں بہے ، دو نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں لگے اور دوسری نشانی وہ ہے جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کی ادائیگی کی حالت میں لگے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔