کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: شہید کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا غَيْرُ الشَّهِيدِ ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، يَقُولُ : حَتَّى أُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مِمَّا يَرَى مِمَّا أَعْطَاهُ مِنَ الْكَرَامَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کے علاوہ کوئی جنتی ایسا نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہے ، کہتا ہے : ( دل چاہتا ہے کہ ) اللہ کی راہ میں دس مرتبہ قتل کیا جاؤں ، یہ اس وجہ سے کہ وہ اس مقام کو دیکھ چکا ہے جس سے اللہ نے اس کو نوازا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1643 ( تحفة الأشراف : 1386) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` انس رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: **
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1643 ( تحفة الأشراف : 1252) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1663
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ : يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں ، ( ۱ ) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ، ( ۲ ) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے ، ( ۳ ) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے ، ( ۴ ) «فزع الأكبر» ( عظیم گھبراہٹ والے دن ) سے مامون رہے گا ، ( ۵ ) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ، ( ۶ ) بہتر ( ۷۲ ) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی ، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ چھ خصلتیں ایسی ہیں کہ شہید کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أحكام الجنائز (35 - 36) ، التعليق الرغيب (2 / 194)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الجہاد 16 (2799) ، ( تحفة الأشراف : 11556) ، و مسند احمد (4/131) (صحیح)»