کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1646
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً ، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً ، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : ایک آدمی اظہار شجاعت ( بہادری ) کے لیے لڑتا ہے ، دوسرا حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے ، تیسرا ریاکاری کے لیے لڑتا ہے ، ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جہاد کرے ، وہ اللہ کے راستے میں ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2783)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/العلم 45 (123) ، والجہاد 15 (2810) ، والخمس 10 (3126) ، والتوحید 28 (4728) ، صحیح مسلم/الإمارة 42 (1904) ، سنن ابی داود/ الجہاد 26 (2517) ، سنن النسائی/الجہاد 31 (3138) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد 13 (2783) ، ( تحفة الأشراف : 8999) ، و مسند احمد (4/392، 397، 402، 405، 417) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ هَذَا ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ : يَنْبَغِي أَنْ نَضَعَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كُلِّ بَابٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ، آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے مانی جائے گی اور جس نے حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- مالک بن انس ، سفیان ثوری اور کئی ائمہ حدیث نے اسے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے ، ہم اسے صرف یحییٰ بن سعید انصاری ہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۳- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : ہمیں اس حدیث کو ہر باب میں رکھنا چاہیئے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4227)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/بدء الوحي 1 (1) ، والإیمان 41 (45) ، والعتق 6 (2529) ، ومناقب الأنصار 45 (3898) ، والنکاح 5 (5070) ، والنذور 23 (6689) ، والحیل 1 (6953) ، صحیح مسلم/الإمارة 45 (907) ، سنن ابی داود/ الطلاق 11 (2201) ، سنن النسائی/الطہارة 60 (75) ، والطلاق 24 (3467) ، والأیمان والنذور 18 (3825) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 21 (4227) ، ( تحفة الأشراف : 10612) ، و مسند احمد (1/25، 43) (صحیح)»