کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جہاد کی نیت سے گھوڑا پالنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ : هِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ ، فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُعِدُّهَا لَهُ هِيَ لَهُ أَجْرٌ ، لَا يَغِيبُ فِي بُطُونِهَا شَيْءٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا " ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر بندھی ہوئی ہے ، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں : ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے باعث اجر ہے ، ایک وہ گھوڑا ہے جو آدمی کی ( عزت و وقار ) کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہے ، اور ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے باعث گناہ ہے ، وہ آدمی جس کے لیے گھوڑا باعث اجر ہے وہ ایسا شخص ہے جو اس کو جہاد کے لیے رکھتا ہے ، اور اسی کے لیے تیار کرتا ہے ، یہ گھوڑا اس شخص کے لیے باعث اجر ہے ، اس کے پیٹ میں جو چیز ( خوراک ) بھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اجر و ثواب لکھ دیتا ہے “ ، اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- مالک بن انس نے بطریق : «زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الشرب والمساقاة 12 (2371) ، والجہاد 48 (2860) ، والمناقب 28 (3646) ، وتفسیر الزلزلة 1 (4963) ، والاعتصام 24 (7356) ، صحیح مسلم/الزکاة 6 (987) ، سنن النسائی/الخیل 1 (3592، 3593) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد 14 (2788) ، ( تحفة الأشراف : 2721) ، و مسند احمد (2/262، 283) (صحیح)»