کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1622
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أنهما حدثاه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، زَحْزَحَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " ، أَحَدُهُمَا يَقُولُ : " سَبْعِينَ " ، وَالْآخَرُ يَقُولُ : " أَرْبَعِينَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيُّ الْمَدَنِيُّ ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَنَسٍ ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، وَأَبِي أُمَامَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جہاد کرتے وقت ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور کرے گا “ ۱؎ ۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار میں سے ایک نے ” ستر برس “ کہا ہے اور دوسرے نے ” چالیس برس “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ،
۲- راوی ابوالاسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدنی ہے ،
۳- اس باب میں ابوسعید ، انس ، عقبہ بن عامر اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: جہاد کرتے وقت روزہ رکھنے کی فضیلت کے حامل وہ مجاہدین ہیں جنہیں روزہ رکھ کر کمزوری کا احساس نہ ہو، اور جنہیں کمزوری لاحق ہونے کا خدشہ ہو وہ اس فضیلت کے حامل نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح باللفظ الأول، التعليق الرغيب (2 / 62)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الصیام 44 (2246، 2248) ، سنن ابن ماجہ/الصیام 34 (1718) ، ( تحفة الأشراف : 13486) ، و مسند احمد (2/300، 357) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’ ابن لہیعہ ‘‘ ضعیف ہیں)»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا بَاعَدَ ذَلِكَ الْيَوْمُ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راہ جہاد میں کوئی بندہ ایک دن بھی روزہ رکھتا ہے تو وہ دن اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک جہنم کی آگ کو دور کر دے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1717)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجہاد 36 (2840) ، صحیح مسلم/الصوم 31 (1153) ، سنن النسائی/الصیام 44 (2247) ، 2249-2252) ، و 45 2253-2255) ، سنن ابن ماجہ/الصوم 34 (1717) ، ( تحفة الأشراف : 4388) ، و مسند احمد (3/26، 45، 59، 83) ، سنن الدارمی/الجہاد 10 (2404) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1624
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " ، هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے “ ۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الصحيحة (563)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : 4904) (حسن صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے، ورنہ ’’ ولید ‘‘ اور ان کے شیخ میں قدرے کلام ہے، دیکھیے الصحیحة رقم 563)»