کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: لوگوں کے جھگڑنے کی وجہ سے شب قدر کی معرفت اٹھائے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2023
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : " خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ ، وَالسَّابِعَةِ ، وَالْخَامِسَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، ان سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے بیان کیا ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کی خبر دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں جھگڑا کرنے لگے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آیا تھا کہ تمہیں شب قدر بتا دوں لیکن فلاں فلاں نے آپس میں جھگڑا کر لیا ۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا اور امید یہی ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو گا ۔ پس اب تم اس کی تلاش ( آخری عشرہ کی ) نو یا سات یا پانچ ( کی راتوں ) میں کیا کرو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: 2023
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة