حدیث نمبر: 1600
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَتَقَدَّمَ سَرْعَانُ النَّاسِ ، فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ ، فَاطَّبَخُوا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَى النَّاسِ ، فَمَرَّ بِالْقُدُورِ ، فَأَمَرَ بِهَا ، فَأُكْفِئَتْ ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ ، فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَهَذَا أَصَحُّ ، وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ ، وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَجَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے ( کھانے پکانے کی چیزیں ) جلدی لیا اور ( تقسیم سے پہلے اسے ) پکانے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے ، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں ، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا ، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق : «عن أبيه سعيد ، عن عباية ، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے ، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں : ہم سے وکیع نے بیان کیا ، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں ۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے ، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے ،
۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم ، انس ، ابوریحانہ ، ابوالدرداء ، عبدالرحمٰن بن سمرہ ، زید بن خالد ، جابر ، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق : «عن أبيه سعيد ، عن عباية ، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے ، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں : ہم سے وکیع نے بیان کیا ، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں ۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے ، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے ،
۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم ، انس ، ابوریحانہ ، ابوالدرداء ، عبدالرحمٰن بن سمرہ ، زید بن خالد ، جابر ، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: تقسیم سے قبل یہ جلد باز لوگ اس مشترکہ مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور بکریوں کو ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لوٹے ہوئے مال کو حرام قرار دیا اور چولہے پر چڑھی ہانڈیوں کے الٹ دینے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1601
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کسی معصوم کے مال کو اس کی اجازت و رضا مندی کے بغیر ڈاکہ زنی کر کے لینا حرام ہے، اور اگر کوئی یہ کام حلال سمجھ کر کر رہا ہے تو وہ کافر ہے۔