کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جاہلیت کے حلف (معاہدہ تعاون) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1585
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ ، يَعْنِي : الْإِسْلَامَ ، إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا : ” جاہلیت کے حلف ( معاہدہ تعاون ) کو پورا کرو ۱؎ ، اس لیے کہ اس سے اسلام کی مضبوطی میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور اب اسلام میں کوئی نیا معاہدہ تعاون نہ کرو “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف ، ام سلمہ ، جبیر بن مطعم ، ابوہریرہ ، ابن عباس اور قیس بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے متعلق جو عہد ہوا ہے اسے پورا کرو بشرطیکہ یہ عہد شریعت کے مخالف نہ ہو۔
۲؎: یعنی یہ عہد کرنا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، کیونکہ اسلام آ جانے کے بعد اس طرح کا عہد درست نہیں ہے، بلکہ وراثت سے متعلق عہد کے لیے اسلام کافی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (3983 / التحقيق الثاني)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 8690) (حسن)»