حدیث نمبر: 1572
حَدَّثَنِي أبو رجاء قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ : الْكِبْرِ ، وَالْغُلُولِ ، وَالدَّيْنِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مر گیا اور تین چیزوں یعنی تکبر ( گھمنڈ ) ، مال غنیمت میں خیانت اور قرض سے بری رہا ، وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ : الْكَنْزِ ، وَالْغُلُولِ ، وَالدَّيْنِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ : " الْكَنْزُ " ، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ : " الْكِبْرُ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز ، غلول اور قرض سے بری رہا ، وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۱؎ ۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں «الكنز» بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں «الكبر» بیان کیا ہے ، اور اس میں «عن معدان» کا ذکر نہیں کیا ہے ، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «کنز» : وہ خزانہ ہے جو زمین میں دفن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ «غلول» : مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
حدیث نمبر: 1574
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخلال، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، قَال : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانًا قَدِ اسْتُشْهِدَ ، قَالَ : " كَلَّا ، قَدْ رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ بِعَبَاءَةٍ قَدْ غَلَّهَا ، قَالَ : قُمْ يَا عُمَرُ ، فَنَادِ : إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ " ، ثَلَاثًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! فلاں آدمی شہید ہو گیا ، آپ نے فرمایا : ” ہرگز نہیں ، میں نے اس عباء ( کپڑے ) کی وجہ سے اسے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا “ ، آپ نے فرمایا : ” عمر ! کھڑے ہو جاؤ اور تین مرتبہ اعلان کر دو ، جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے “ ( اور مومن آدمی خیانت نہیں کیا کرتے ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔