حدیث نمبر: 1566
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الشَّيْبَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا ، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، كَرِهُوا التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْيِ ، بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا ، وَبَيْنَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : قَدْ سَمِعْتُ البُخَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے ماں اور اس کے بچہ کے درمیان جدائی پیدا کی ، اللہ قیامت کے دن اسے اس کے دوستوں سے جدا کر دے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، وہ لوگ قیدیوں میں ماں اور بچے کے درمیان ، باپ اور بچے کے درمیان اور بھائیوں کے درمیان جدائی کو ناپسند سمجھتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، وہ لوگ قیدیوں میں ماں اور بچے کے درمیان ، باپ اور بچے کے درمیان اور بھائیوں کے درمیان جدائی کو ناپسند سمجھتے ہیں ۔