حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ ، فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے پاس گواہ موجود ہو تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ قصہ صحیح البخاری کی حدیث ۳۱۴۳، ۴۳۲۲ اور صحیح مسلم کی حدیث ۱۷۵۱ میں دیکھا جا سکتا ہے، واقعہ دلچسپ ہے ضرور مطالعہ کریں۔
حدیث نمبر: 1562M
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَأَنَسٍ ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ هُوَ نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لِلْإِمَامِ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ السَّلَبِ الْخُمُسَ ، وقَالَ الثَّوْرِيُّ : النَّفَلُ ، أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ : مَنْ أَصَابَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَهُوَ جَائِزٌ ، وَلَيْسَ فِيهِ الْخُمُسُ ، وقَالَ إِسْحَاق : السَّلَبُ لِلْقَاتِلِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا كَثِيرًا ، فَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يُخْرِجَ مِنْهُ الْخُمُسَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابوقتادہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عوف بن مالک ، خالد بن ولید ، انس اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اوزاعی ، شافعی اور احمد کا بھی یہی قول ہے ،
۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مقتول کے سامان سے خمس نکالنے کا امام کو اختیار ہے ، ثوری کہتے ہیں : «نفل» یہی ہے کہ امام اعلان کر دے کہ جو کافروں کا سامان چھین لے وہ اسی کا ہو گا اور جو کسی کافر کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا اور ایسا کرنا جائز ہے ، اس میں خمس واجب نہیں ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ مقتول کا مال قاتل کا ہے مگر جب سامان زیادہ ہو اور امام اس میں سے خمس نکالنا چاہے جیسا کہ عمر بن خطاب نے کیا ۔
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عوف بن مالک ، خالد بن ولید ، انس اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اوزاعی ، شافعی اور احمد کا بھی یہی قول ہے ،
۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مقتول کے سامان سے خمس نکالنے کا امام کو اختیار ہے ، ثوری کہتے ہیں : «نفل» یہی ہے کہ امام اعلان کر دے کہ جو کافروں کا سامان چھین لے وہ اسی کا ہو گا اور جو کسی کافر کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا اور ایسا کرنا جائز ہے ، اس میں خمس واجب نہیں ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ مقتول کا مال قاتل کا ہے مگر جب سامان زیادہ ہو اور امام اس میں سے خمس نکالنا چاہے جیسا کہ عمر بن خطاب نے کیا ۔